سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 3188

نمبر 3188کتاب 47، نمبر 240
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ الأَشْجَعِيُّ، هُوَ كُوفِيٌّ اسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الأَشْجَعِيَّةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَمِّهِ ‏"‏ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدْ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَوْلاَ أَنْ تُعَيِّرَنِي بِهَا قُرَيْشٌ أَنَّمَا يَحْمِلُهُ عَلَيْهِ الْجَزَعُ لأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏:‏ ‏(‏إنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ( ابوطالب ) سے کہا: ”آپ «لا إله إلا الله» ”کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے“ کہہ دیجئیے میں آپ کے ایمان کی قیامت کے روز گواہی دوں گا، انہوں نے کہا: اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش مجھے طعنہ دیں گے کہ موت کی گھبراہٹ سے اس نے ایمان قبول کر لیا ہے تو میں تمہارے سامنے ہی اس کلمے کا اقرار کر لیتا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت یہ نازل فرمائی: «إنك لا تهدي من أحببت ولكن الله يهدي من يشاء» ”آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے“ ( القصص: ۵۶ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یزید بن کیسان کی روایت سے جانتے ہیں۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAhmad Muhammad Shakir
  • SahihAl-Albani
  • Sahih MuslimZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 47 · Chapters on Tafsir

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔