سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 3166

نمبر 3166کتاب 47، نمبر 218
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلاَّ فِي ثَلاَثٍ قَوْلُهُ ‏:‏ ‏(‏إنِّي سَقِيمٌ ‏)‏ وَلَمْ يَكُنْ سَقِيمًا وَقَوْلُهُ لِسَارَةَ أُخْتِي وَقَوْلُهُ ‏:‏ ‏(‏ بلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام نے تین معاملات کے سوا کسی بھی معاملے میں کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا، ایک تو یہ ہے کہ آپ نے کہا: میں بیمار ہوں، حالانکہ آپ بیمار نہیں تھے، ( دوسرا ) آپ نے سارہ کو اپنی بہن کہا: ( جب کہ وہ آپ کی بیوی تھیں ) ( تیسرا، آپ نے بت توڑا ) اور پوچھنے والوں سے آپ نے کہا: بڑے ( بت ) ان کے اس بڑے نے توڑے ہیں، ( ان سے پوچھ لیں ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، اور ابوالزناد کے واسطہ سے ابن اسحاق کی روایت غریب ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAhmad Muhammad Shakir
  • SahihAl-Albani
  • Hasan SahihBashar Awad Maarouf
  • SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 47 · Chapters on Tafsir

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔