سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 3116

نمبر 3116کتاب 47، نمبر 168
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الْكَرِيمَ بْنَ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ ثُمَّ جَاءَنِي الرَّسُولُ أَجَبْتُ ‏.‏ ثُمَّ قَرَأََ ‏:‏ ‏(‏ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ‏)‏ قَالَ ‏:‏ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى لُوطٍ إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ إِذْ قَالَ ‏:‏ ‏(‏ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ‏)‏ فَمَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ نَبِيًّا إِلاَّ فِي ذِرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، نَحْوَ حَدِيثِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ مَا بَعَثَ اللَّهُ بَعْدَهُ نَبِيًّا إِلاَّ فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الثَّرْوَةُ الْكَثْرَةُ وَالْمَنَعَةُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف باپ کے ( یعنی ) یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ۱؎ کی عظمت اور نجابت و شرافت کا یہ حال تھا کہ جتنے دنوں یوسف علیہ السلام جیل خانے میں رہے ۲؎ اگر میں قید خانے میں رہتا، پھر ( بادشاہ کا ) قاصد مجھے بلانے آتا تو میں اس کی پکار پر فوراً جا حاضر ہوتا، یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کی طلبی کو قبول نہ کیا بلکہ کہا جاؤ پہلے بادشاہ سے پوچھو! ان ”محترمات“ کا اب کیا معاملہ ہے، جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ لیے تھے۔ پھر آپ نے آیت: «فلما جاءه الرسول قال ارجع إلى ربك فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن» ۳؎ کی تلاوت فرمائی۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ رحم فرمائے لوط علیہ السلام پر جب کہ انہوں نے مجبور ہو کر تمنا کی تھی: اے کاش میرے پاس طاقت ہوتی، یا کوئی مضبوط سہارا مل جاتا۔ جب کہ انہوں نے کہا: «لو أن لي بكم قوة أو آوي إلى ركن شديد» ۴؎۔ آپ نے فرمایا: ”لوط علیہ السلام کے بعد تو اللہ نے جتنے بھی نبی بھیجے انہیں ان کی قوم کے اعلیٰ نسب چیدہ لوگوں اور بلند مقام والوں ہی میں سے بھیجے“۔
ماخذ میں درج درجات
  • HasanAhmad Muhammad Shakir
  • HasanAl-Albani
  • HasanBashar Awad Maarouf
  • Isnaad HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 47 · Chapters on Tafsir

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔