نمبر 2502کتاب 37، نمبر 88
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ حَكَيْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً فَقَالَ " مَا يَسُرُّنِي أَنِّي حَكَيْتُ رَجُلاً وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا " . قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفِيَّةَ امْرَأَةٌ وَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا كَأَنَّهَا تَعْنِي قَصِيرَةً . فَقَالَ " لَقَدْ مَزَجْتِ بِكَلِمَةٍ لَوْ مَزَجْتِ بِهَا مَاءَ الْبَحْرِ لَمُزِجَ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اور مجھے اتنا اور اتنا مال ملے“۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیشک صفیہ ایک عورت ہیں، اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا، گویا یہ مراد لے رہی تھیں کہ صفیہ پستہ قد ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”بیشک تم نے اپنی باتوں میں ایسی بات ملائی ہے کہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا رنگ بدل جائے“ ۱؎۔
ماخذ میں درج درجات
- SahihAhmad Muhammad Shakir
- SahihAl-Albani
- Isnaad SahihZubair Ali Zai