نمبر 2454کتاب 37، نمبر 40
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي يَعْلَى، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطًّا مُرَبَّعًا وَخَطَّ فِي وَسَطِ الْخَطِّ خَطًّا وَخَطَّ خَارِجًا مِنَ الْخَطِّ خَطًّا وَحَوْلَ الَّذِي فِي الْوَسَطِ خُطُوطًا فَقَالَ " هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ وَهَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ الإِنْسَانُ وَهَذِهِ الْخُطُوطُ عُرُوضُهُ إِنْ نَجَا مِنْ هَذَا يَنْهَشُهُ هَذَا وَالْخَطُّ الْخَارِجُ الأَمَلُ " . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مربع خط ( یعنی چوکور ) لکیر کھینچی اور ایک لکیر درمیان میں اس سے باہر نکلتا ہوا کھینچی، اور اس درمیانی لکیر کے بغل میں چند چھوٹی چھوٹی لکیریں اور کھینچی، پھر فرمایا: ”یہ ابن آدم ہے اور یہ لکیر اس کی موت کی ہے جو ہر طرف سے اسے گھیرے ہوئے ہے۔ اور یہ درمیان والی لکیر انسان ہے ( یعنی اس کی آرزوئیں ہیں ) اور یہ چھوٹی چھوٹی لکیریں انسان کو پیش آنے والے حوادث ہیں، اگر ایک حادثہ سے وہ بچ نکلا تو دوسرا اسے ڈس لے گا اور باہر نکلنے والا خط اس کی امید ہے ۱؎۔
ماخذ میں درج درجات
- SahihAhmad Muhammad Shakir
- SahihAl-Albani
- SahihBashar Awad Maarouf
- Sahih BukhariZubair Ali Zai