سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 2177

نمبر 2177کتاب 33، نمبر 20
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ، قَالَتْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ خَيْرُ النَّاسِ فِيهَا قَالَ ‏ "‏ رَجُلٌ فِي مَاشِيَتِهِ يُؤَدِّي حَقَّهَا وَيَعْبُدُ رَبَّهُ وَرَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ يُخِيفُ الْعَدُوَّ وَيُخِيفُونَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ام مالک بہزیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کا ذکر کیا اور فرمایا: ”وہ بہت جلد ظاہر ہو گا“، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اس وقت سب سے بہتر کون شخص ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ایک وہ آدمی جو اپنے جانوروں کے درمیان ہو اور ان کا حق ادا کرنے کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتا ہو، اور دوسرا وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑے ہو، وہ دشمن کو ڈراتا ہو اور دشمن اسے ڈراتے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- لیث بن ابی سلیم نے بھی یہ حدیث «عن طاؤس عن أم مالك البهزية عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ام مبشر، ابو سعید خدری اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAhmad Muhammad Shakir
  • SahihAl-Albani
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 33 · Chapters On Al-Fitan

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔