سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 2082

نمبر 2082کتاب 28، نمبر 47
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أَخِي اسْتُطْلِقَ بَطْنُهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اسْقِهِ عَسَلاً ‏"‏ ‏.‏ فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَقَيْتُهُ عَسَلاً فَلَمْ يَزِدْهُ إِلاَّ اسْتِطْلاَقًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اسْقِهِ عَسَلاً ‏"‏ ‏.‏ فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَقَيْتُهُ عَسَلاً فَلَمْ يَزِدْهُ إِلاَّ اسْتِطْلاَقًا ‏.‏ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ, اسْقِهِ عَسَلاً ‏"‏ ‏.‏ فَسَقَاهُ عَسَلاً فَبَرَأَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: میرے بھائی کو دست آ رہا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے شہد پلاؤ“، چنانچہ اس نے اسے پلایا، پھر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے شہد پلاؤ“، اس نے اسے شہد پلایا، پھر آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے، ابو سعید خدری کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ( اپنے قول میں ) سچا ہے، اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کو شہد پلاؤ“، چنانچہ اس نے شہد پلایا تو ( اس بار ) اچھا ہو گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAhmad Muhammad Shakir
  • SahihAl-Albani
  • Hasan SahihBashar Awad Maarouf
  • Sahih - Agreed UponZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 28 · Chapters on Medicine

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔