سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 2054

نمبر 2054کتاب 28، نمبر 19
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قال حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، قال حَدَّثَنَا فَائِدٌ، مَوْلًى لآلِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ جَدَّتِهِ، سَلْمَى وَكَانَتْ تَخْدُمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ مَا كَانَ يَكُونُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُرْحَةٌ وَلاَ نَكْبَةٌ إِلاَّ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَضَعَ عَلَيْهَا الْحِنَّاءَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ فَائِدٍ ‏.‏ وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ فَائِدٍ فَقَالَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ أَصَحُّ وَيُقَالُ سُلْمَى ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قال حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ فَائِدٍ، مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ مَوْلاَهُ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَدَّتِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏
سلمی رضی الله عنہا سے (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتی تھیں) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلوار اور چاقو یا پتھر اور کانٹے سے جو زخم بھی لگتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس پر مہندی رکھنے کا ضرور حکم دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے فائد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کی فائد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «عن علي بن عبيد الله، عن جدته سلمى» کی بجائے «عن عبيد الله ابن علي عن جدته سلمى» بیان کیا ہے، «عبيد الله بن علي» ہی زیادہ صحیح ہے، «سلمیٰ» کو «سُلمیٰ» بھی کہا گیا ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAhmad Muhammad Shakir
  • SahihAl-Albani
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 28 · Chapters on Medicine

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔