نمبر 1687کتاب 23، نمبر 18
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَجْرَإِ النَّاسِ وَأَجْوَدِ النَّاسِ وَأَشْجَعِ النَّاسِ . قَالَ وَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً سَمِعُوا صَوْتًا قَالَ فَتَلَقَّاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَرَسٍ لأَبِي طَلْحَةَ عُرْىٍ وَهُوَ مُتَقَلِّدٌ سَيْفَهُ فَقَالَ " لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا " . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَجَدْتُهُ بَحْرًا " . يَعْنِي الْفَرَسَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے جری ( نڈر ) ، سب سے سخی، اور سب سے بہادر تھے، ایک رات مدینہ والے گھبرا گئے، ان لوگوں نے کوئی آواز سنی، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لٹکائے ابوطلحہ کے ایک ننگی پیٹھ والے گھوڑے پر سوار ہو کر لوگوں کے پاس پہنچے اور فرمایا: ”تم لوگ فکر نہ کرو، تم لوگ فکر نہ کرو“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے چال میں گھوڑے کو سمندر پایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
ماخذ میں درج درجات
- SahihAhmad Muhammad Shakir
- SahihBashar Awad Maarouf
- Sahih - Agreed UponZubair Ali Zai