سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 315

نمبر 315کتاب 2، نمبر 167
وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ بِمَكَّةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، قَالَ كَانَ إِذَا دَخَلَ قَالَ ‏ "‏ رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ $$قَالَ رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ فَضْلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ فَاطِمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ ‏.‏ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تُدْرِكْ فَاطِمَةَ الْكُبْرَى إِنَّمَا عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَشْهُرًا ‏.‏
اسماعیل بن ابراہیم بن راہویہ کا بیان ہے کہ میں عبداللہ بن حسن سے مکہ میں ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اسے بیان کیا اور کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوتے تو یہ کہتے «رب افتح لي باب رحمتك» ”اے میرے رب! اپنی رحمت کے دروازہ میرے لیے کھول دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- فاطمہ رضی الله عنہا کی حدیث ( شواہد کی بنا پر ) حسن ہے، ورنہ اس کی سند متصل نہیں ہے، ۲- فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا ہے، وہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چند ماہ ہی تک زندہ رہیں، ۳- اس باب میں ابوحمید، ابواسید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAhmad Muhammad Shakir
  • SahihAl-Albani
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 2 · The Book on Salat (Prayer)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔