سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 221

نمبر 221کتاب 2، نمبر 73
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ شَهِدَ الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ لَهُ قِيَامُ نِصْفِ لَيْلَةٍ وَمَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ لَهُ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ وَعُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ وَجُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي مُوسَى وَبُرَيْدَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُثْمَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عُثْمَانَ مَوْقُوفًا وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُثْمَانَ مَرْفُوعًا ‏.‏
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو عشاء کی جماعت میں حاضر رہے گا تو اسے آدھی رات کے قیام کا ثواب ملے گا اور جو عشاء اور فجر دونوں نمازیں جماعت سے ادا کرے گا، اسے پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عثمان کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، انس، عمارہ بن رویبہ، جندب بن عبداللہ بن سفیان بجلی، ابی ابن کعب، ابوموسیٰ اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہ حدیث عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کے طریق سے عثمان رضی الله عنہ سے موقوفاً روایت کی گئی ہے، اور کئی دوسری سندوں سے بھی یہ عثمان رضی الله عنہ سے مرفوعاً مروی ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAhmad Muhammad Shakir
  • SahihAl-Albani
  • Hasan SahihBashar Awad Maarouf
  • Sahih - Bukhari And MuslimZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 2 · The Book on Salat (Prayer)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔