سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 168

نمبر 168کتاب 2، نمبر 20
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، قَالَ أَحْمَدُ وَحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، هُوَ الْمُهَلَّبِيُّ وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ جَمِيعًا عَنْ عَوْفٍ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ، هُوَ أَبُو الْمِنْهَالِ الرِّيَاحِيُّ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي بَرْزَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ كَرِهَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ النَّوْمَ قَبْلَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَكْثَرُ الأَحَادِيثِ عَلَى الْكَرَاهِيَةِ ‏.‏ وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي النَّوْمِ قَبْلَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ فِي رَمَضَانَ ‏.‏ وَسَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ هُوَ أَبُو الْمِنْهَالِ الرِّيَاحِيُّ ‏.‏
ابوبرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوبرزہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن مسعود اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اکثر اہل علم نے نماز عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات کرنے کو مکروہ کہا ہے، اور بعض نے اس کی اجازت دی ہے، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: اکثر حدیثیں کراہت پر دلالت کرنے والی ہیں، اور بعض لوگوں نے رمضان میں عشاء سے پہلے سونے کی اجازت دی ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAhmad Muhammad Shakir
  • SahihAl-Albani
  • Hasan SahihBashar Awad Maarouf
  • Sahih - Agreed UponZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 2 · The Book on Salat (Prayer)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔