سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 1370

نمبر 1370کتاب 15، نمبر 51
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلاَ شُفْعَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ مُرْسَلاً عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَبِهِ يَقُولُ بَعْضُ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ مِثْلُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَغَيْرِهِ وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ وَرَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ لاَ يَرَوْنَ الشُّفْعَةَ إِلاَّ لِلْخَلِيطِ وَلاَ يَرَوْنَ لِلْجَارِ شُفْعَةً إِذَا لَمْ يَكُنْ خَلِيطًا ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمُ الشُّفْعَةُ لِلْجَارِ ‏.‏ وَاحْتَجُّوا بِالْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حد بندی ہو جائے اور راستے الگ الگ کر دیے جائیں تو شفعہ نہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے بعض لوگوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، ۳- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم کا جن میں عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان بھی شامل ہیں اسی پر عمل ہے اور بعض تابعین فقہاء جیسے عمر بن عبدالعزیز وغیرہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے، جن میں یحییٰ بن سعید انصاری، ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن اور مالک بن انس شامل ہیں، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، یہ لوگ صرف ساجھی دار کے لیے ہی حق شفعہ کے قائل ہیں۔ اور جب پڑوسی ساجھی دار نہ ہو تو اس کے لیے حق شفعہ کے قائل نہیں۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ پڑوسی کے لیے بھی شفعہ ہے اور ان لوگوں نے مرفوع حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گھر کا پڑوسی گھر کا زیادہ حقدار ہے ۲؎“، نیز فرماتے ہیں: ”پڑوسی اپنے سے لگی ہوئی زمین یا مکان کا زیادہ حقدار ہے اور یہی ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAhmad Muhammad Shakir
  • SahihAl-Albani
  • Hasan SahihBashar Awad Maarouf
  • Sahih BukhariZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 15 · The Chapters On Judgements From The Messenger of Allah

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔