سیدھے مواد پر جائیں
جامع ترمذی

نمبر 1082

نمبر 1082کتاب 11، نمبر 3
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَزَادَ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ فِي حَدِيثِهِ وَقَرَأَ قَتَادَةُ ‏:‏ ‏(‏ولقدْ أَرْسَلْنا رُسُلاً مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً ‏)‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرَوَى الأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ وَيُقَالُ كِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ ‏.‏
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شادی زندگی گزارنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن اخزم نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ قتادہ نے یہ آیت کریمہ: «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» ۲؎ ”ہم آپ سے پہلے کئی رسول بھیج چکے ہیں، ہم نے انہیں بیویاں عطا کیں اور اولادیں“ پڑھی ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اشعث بن عبدالملک نے یہ حدیث بطریق: «الحسن عن سعد بن هشام عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، ۳- کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں ہی حدیثیں صحیح ہیں، ۴- اس باب میں سعد، انس بن مالک، عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih LighairihiAhmad Muhammad Shakir
  • SahihAl-Albani
  • SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 11 · The Book on Marriage

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔