نمبر 145کتاب 1، نمبر 145
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ فِي كِتَابِهِ حِينَ ذَكَرَ الْوُضُوءَ: (فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إلى المَرَافِقِ)، وَقَالَ في التَّيَمُّمِ: (فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ) وَقَالَ: (وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيِهْمَا) فَكَانَتِ السُّنَّةُ في القَطْعِ الكَفَّينِ، إِنَّمَا هُوَ الوَجْهُ وَالكَفَّانِ، يَعْنِي التَّيَمُّمَ".
عکرمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے تیمم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس وقت وضو کا ذکر کیا تو فرمایا ”اپنے چہرے کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ“، اور تیمم کے بارے میں فرمایا: ”اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرو“، اور فرمایا: ”چوری کرنے والے مرد و عورت کی سزا یہ ہے کہ ان کے ہاتھ کاٹ دو“ تو ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں سنت یہ تھی کہ ( پہنچے تک ) ہتھیلی کاٹی جاتی، لہٰذا تیمم صرف چہرے اور ہتھیلیوں ہی تک ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
ماخذ میں درج درجات
- Daif IsnaadAhmad Muhammad Shakir
- Daif IsnaadAl-Albani
- DaifZubair Ali Zai