سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 612

نمبر 612کتاب 6، نمبر 119
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، وَعَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَجَعَلُوا يَنْتَظِرُونَهُ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أُوتِرُ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ الأَذَانِ وِتْرٌ قَالَ نَعَمْ وَبَعْدَ الإِقَامَةِ وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَامَ عَنِ الصَّلاَةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى ‏.‏ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ‏.‏
محمد بن منتشر سے روایت ہے کہ وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے کہ نماز کی اقامت کہی گئی، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے ( جب وہ آئے تو ) انہوں نے کہا: میں وتر پڑھنے لگا تھا، ( اس لیے تاخیر ہوئی ) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے پوچھا: کیا ( فجر کی ) اذان کے بعد وتر ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اور اقامت کے بعد بھی، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ سورج نکل آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ۱؎ اس حدیث کے الفاظ یحییٰ بن حکیم کے ہیں۔
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih IsnaadAbu Ghuddah
  • Sahih IsnaadAl-Albani
  • Isnaad SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 6 · The Book of the Times (of Prayer)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔