سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 5735

نمبر 5735کتاب 51، نمبر 197
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، فَيْرُوزَ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَصْحَابُ كَرْمٍ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ فَمَاذَا نَصْنَعُ قَالَ ‏"‏ تَتَّخِذُونَهُ زَبِيبًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَنَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ مَاذَا قَالَ ‏"‏ تَنْقَعُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَنْقَعُونَهُ عَلَى عَشَائِكُمْ وَتَشْرَبُونَهُ عَلَى غَدَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَفَلاَ نُؤَخِّرُهُ حَتَّى يَشْتَدَّ قَالَ ‏"‏ لاَ تَجْعَلُوهُ فِي الْقُلَلِ وَاجْعَلُوهُ فِي الشِّنَانِ فَإِنَّهُ إِنْ تَأَخَّرَ صَارَ خَلاًّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah Ad-Dailami that his father Fairuz said:"I came to the Messenger of Allah [SAW] and said: 'O Messenger of Allah, we have grapevines and Allah, the Mighty and Sublime, has revealed that Khamr (wine) is forbidden, so what should we do?' He said: 'Make raisins.' I said: 'What should we do with the raisins?' He said: 'Soak them in the morning and drink them in the evening, and soak them in the evening and drink them in the morning.' I said: 'Can we leave it until it gets stronger?' He said: 'Do not put it in clay vessels, rather put it in skins, for if it stays there for a long time, it will turn into vinegar
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih IsnaadAbu Ghuddah
  • Sahih IsnaadAl-Albani
  • SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 51 · The Book of Drinks

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔