سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 5710

نمبر 5710کتاب 51، نمبر 172
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ الْحَلاَلَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ ‏"‏ ‏.‏ وَرُبَّمَا قَالَ ‏"‏ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَةً وَسَأَضْرِبُ فِي ذَلِكَ مَثَلاً إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَمَى حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَا حَرَّمَ وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى ‏"‏ ‏.‏ وَرُبَّمَا قَالَ ‏"‏ يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ وَإِنَّ مَنْ خَالَطَ الرِّيبَةَ يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that An-Nu'man bin Bashir said:"I heard the Messenger of Allah [SAW] say: 'That which is lawful is clear and that which is unlawful is clear, but between them there are matters which are doubtful.'" And sometimes he said: "But between them are matters that are not as clear. I will describe the likeness of that for you. Allah, the Mighty and Sublime, has a sanctuary and the sanctuary of Allah is that which He has forbidden. Whoever grazes around the sanctuary will soon transgress into the sanctuary. And whoever approaches a matter that is unclear, he will soon wind up in the sanctuary." And sometimes he said: "He will soon transgress, and indeed whoever mixes in doubt, he will soon cross into it
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 51 · The Book of Drinks

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔