سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 5694

نمبر 5694کتاب 51، نمبر 156
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَأَيْتُ رَجُلاً جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ وَهُوَ عِنْدَ الرُّكْنِ وَدَفَعَ إِلَيْهِ الْقَدَحَ فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا فَرَدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ فَقَالَ ‏"‏ عَلَىَّ بِالرَّجُلِ ‏"‏ ‏.‏ فَأُتِيَ بِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ الْقَدَحَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ فِيهِ فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ فَقَطَّبَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ أَيْضًا فَصَبَّهُ فِيهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِذَا اغْتَلَمَتْ عَلَيْكُمْ هَذِهِ الأَوْعِيَةُ فَاكْسِرُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar said:"While he was at the Rukn, I saw a man bring a cup to the Messenger of Allah [SAW] in which there was Nabidh. He gave the cup to him and he raised it to his mouth, but he found it to be strong, so he gave it back to him and a man among the people said: 'O Messenger of Allah, is it unlawful?' He said: 'Bring the man to me.' So he was brought to him. He took the cup from him and called for water. He poured it into the cup, which he raised to his mouth and frowned. Then he called for more water and poured it into it. Then he said: 'When these vessels become strong in taste, pour water on them to weaken them
ماخذ میں درج درجات
  • Daif IsnaadAbu Ghuddah
  • Daif IsnaadAl-Albani
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 51 · The Book of Drinks

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔