سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 5610

نمبر 5610کتاب 51، نمبر 72
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ لَهُ فِي دُبَّاءٍ فَجِئْتُهُ بِهِ فَقَالَ ‏"‏ أَدْنِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَدْنَيْتُهُ مِنْهُ فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ فَقَالَ ‏"‏ اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لاَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى تَحْرِيمِ السَّكَرِ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ وَلَيْسَ كَمَا يَقُولُ الْمُخَادِعُونَ لأَنْفُسِهِمْ بِتَحْرِيمِهِمْ آخِرِ الشَّرْبَةِ وَتَحْلِيلِهِمْ مَا تَقَدَّمَهَا الَّذِي يُشْرَبُ فِي الْفَرَقِ قَبْلَهَا وَلاَ خِلاَفَ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ السُّكْرَ بِكُلِّيَّتِهِ لاَ يَحْدُثُ عَلَى الشَّرْبَةِ الآخِرَةِ دُونَ الأُولَى وَالثَّانِيَةِ بَعْدَهَا وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"I know that the Messenger of Allah [SAW] was fasting, so I prepared some Nabidh for him to break his fast that I had prepared for him in a gourd. I brought it to him and he said: 'Bring it here.' So I brought it closer and it was bubbling. He said: 'Throw it against the wall (throw it away), for this is the drink of one who does not believe in Allah or the Last Day
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 51 · The Book of Drinks

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔