سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 5458

نمبر 5458کتاب 50، نمبر 31
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ لاَ أُعَلِّمُكُمْ إِلاَّ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلاَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لاَ يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ وَعِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ وَدَعْوَةٍ لاَ يُسْتَجَابُ لَهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] used to teach us. He said: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min qalbin la yakhsha'u wa min nafsin la tashba'u wa 'ilmin la yanfa'u wa da'watin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and Lord. O Allah, I seek refuge in You from a heart that is not humble, a soul that is not satisfied, knowledge that is of no benefit and a supplication that is not answered)
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • Sahih MuslimZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 50 · The Book of Seeking Refuge with Allah

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔