سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 5429

نمبر 5429کتاب 50، نمبر 2
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَأَصَبْتُ خَلْوَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ ‏"‏ قُلْ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ مَا أَقُولُ قَالَ ‏"‏ قُلْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مَا أَقُولُ قَالَ ‏"‏ ‏{‏ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ‏{‏ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَا تَعَوَّذَ النَّاسُ بِأَفْضَلَ مِنْهُمَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Mu'adh bin 'Abdullah bin Khubaib that his father said:"I was with the Messenger of Allah [SAW] on the road to Makkah when I found myself alone with the Messenger of Allah [SAW]. I drew close to him and he said: 'Say.' I said: 'What should I say?' He said: 'Say.' I said: 'What should I say?' He said: 'Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak...' until he finished (the Surah), then he said: 'Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind...' until he finished it. Then he said: 'The people cannot seek refuge with Allah by means of anything better than these two
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih IsnaadAbu Ghuddah
  • Sahih IsnaadAl-Albani
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 50 · The Book of Seeking Refuge with Allah

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔