سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 5391

نمبر 5391کتاب 49، نمبر 13
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِيهِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Abbas said:"Al-Fadl bin 'Abbas was riding behind the Messenger of Allah [SAW] when a woman from Khath'am came to ask him a question. Al-Fadl started looking at her, and she at him, and the Messenger of Allah [SAW] turned the face of Al-Fadl the other way. She said: 'O Messenger of Allah, the command of Allah, the Mighty and Sublime, to His slaves to perform Hajj has come while my father is an old man, and he cannot sit firmly in the saddle; can I perform Hajj on his behalf?' He said: 'Yes.' That was during the Farewell Pilgrimage
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 49 · The Book of the Etiquette of Judges

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔