سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 5189

نمبر 5189کتاب 48، نمبر 150
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ رَجُلٍ، حَدَّثَهُ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِخْصَرَةٌ أَوْ جَرِيدَةٌ فَضَرَبَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِصْبَعَهُ فَقَالَ الرَّجُلُ مَا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَلاَ تَطْرَحُ هَذَا الَّذِي فِي إِصْبَعِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخَذَهُ الرَّجُلُ فَرَمَى بِهِ فَرَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ مَا فَعَلَ الْخَاتَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَمَيْتُ بِهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا بِهَذَا أَمَرْتُكَ إِنَّمَا أَمَرْتُكَ أَنْ تَبِيعَهُ فَتَسْتَعِينَ بِثَمَنِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ‏.‏
It was narrated from Al-Bara' bin 'Azib that :A man was sitting with the Prophet [SAW] and he was wearing a gold ring. The Messenger of Allah [SAW] had a stick in his hand and the Prophet [SAW] struck his finger. The man said: "What's wrong with me, O Messenger of Allah?" He said: "Why don't you get rid of this thing that is on your finger?" The man took it and threw it away. The Prophet [SAW] saw him after that and said: "What happened to the ring?" He said: "I threw it away." He said: "I did not tell you to do that, rather I told you to sell it and benefit from its price." This Hadith is Munkar
ماخذ میں درج درجات
  • Daif IsnaadAbu Ghuddah
  • Daif IsnaadAl-Albani
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 48 · The Book of Adornment

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔