سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4881

نمبر 4881کتاب 46، نمبر 12
أَخْبَرَنِي هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، - هُوَ ابْنُ أَبِي بَشِيرٍ - قَالَ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى ثُمَّ لَفَّ رِدَاءً لَهُ مِنْ بُرْدٍ فَوَضَعَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ فَنَامَ فَأَتَاهُ لِصٌّ فَاسْتَلَّهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ فَأَخَذَهُ فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ هَذَا سَرَقَ رِدَائِي ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَسَرَقْتَ رِدَاءَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبَا بِهِ فَاقْطَعَا يَدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ صَفْوَانُ مَا كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ فِي رِدَائِي ‏.‏ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ فَلَوْ مَا قَبْلَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ خَالَفَهُ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ‏.‏
It was narrated from Safwan bin Umayyah that:he circumambulated theKa'bah and prayed, then he rolled up a Rid' of his and placed it beneath his head, and slept. A thief came and slid it out from beneath his head and took it. He brought him to the Prophet and said: "This man stole my Rida. The Prophet said to him: Did you steal this man's Rida?" He said: "Yes." He said: "Take him away and cut his hand off." Safwan said: "I* did not want to have his hand cut off for my Rida'." He said: "Why (did you not say that) before now?
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 46 · The Book of Cutting off the Hand of the Thief

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔