سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4874

نمبر 4874کتاب 46، نمبر 5
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُ رَفَعَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الْكَلاَعِيِّينَ أَنَّ حَاكَةً سَرَقُوا مَتَاعًا فَحَبَسَهُمْ أَيَّامًا ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَتَوْهُ فَقَالُوا خَلَّيْتَ سَبِيلَ هَؤُلاَءِ بِلاَ امْتِحَانٍ وَلاَ ضَرْبٍ ‏.‏ فَقَالَ النُّعْمَانُ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَضْرِبْهُمْ فَإِنْ أَخْرَجَ اللَّهُ مَتَاعَكُمْ فَذَاكَ وَإِلاَّ أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِكُمْ مِثْلَهُ ‏.‏ قَالُوا هَذَا حُكْمُكَ ‏.‏ قَالَ هَذَا حُكْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that:a group of the Kala'iyin complaned to him about some people who had stolen some goods, shoe detained them for several days, and then he let them go. They came and said: "You let them go without any pressure (to make them admit to their crime) or beating?" An-Nu'man said: "What do you want? If you wish, I will beat them, and if Allah brings back your goods thereby, all well and good. Otherwise I will take retaliation from your backs (by beating you) likewise." They said: "is this your ruling?" He said: "This is the ruling of Allah and His Messenger "(Daif)
ماخذ میں درج درجات
  • HasanAbu Ghuddah
  • HasanAl-Albani
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 46 · The Book of Cutting off the Hand of the Thief

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔