سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4862

نمبر 4862کتاب 45، نمبر 157
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فَإِذَا بِابْنٍ لِمَرْوَانَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَرَأَهُ فَلَمْ يَرْجِعْ فَضَرَبَهُ فَخَرَجَ الْغُلاَمُ يَبْكِي حَتَّى أَتَى مَرْوَانَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ مَرْوَانُ لأَبِي سَعِيدٍ لِمَ ضَرَبْتَ ابْنَ أَخِيكَ قَالَ مَا ضَرَبْتُهُ إِنَّمَا ضَرَبْتُ الشَّيْطَانَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ فَأَرَادَ إِنْسَانٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَدْرَؤُهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that:he was praying and a son a Marwan wanted to pass in front of him. He tried to stop him but he did not go back, so he hit him. The boy went the boy went out crying and went to Marwan and told him (what had happened). Marwan said to Abu Sa'eed: "Why did you hit your brother's son?" He said: "I did not hit him, rater I hit the Saitan. I heard the Messenger of Allah say: 'If one of you is praying and someone wants to pass in front of him, let him troy to stop him as much as he can, and if he persists then let him fight him, for he is a devil
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • Isnaad SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 45 · The Book of Oaths (qasamah), Retaliation and Blood Money

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔