سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4775

نمبر 4775کتاب 45، نمبر 70
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، وَقَعَ فِي أَبٍ كَانَ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ فَجَاءَ قَوْمُهُ فَقَالُوا لَيَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ ‏.‏ فَلَبِسُوا السِّلاَحَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ ‏"‏ أَيُّهَا النَّاسُ أَىُّ أَهْلِ الأَرْضِ تَعْلَمُونَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا أَنْتَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ لاَ تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَ الْقَوْمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ اسْتَغْفِرْ لَنَا ‏.‏
Ibn 'Abbad narrated that:a man slandered one of his forefathers from the time of the Jahiliyyah, and Al-'Abbas slapped him. His people came and said: "Let him slap him as he slapped him," and they prepared for quarrel. News of that reached the Prophet, and he ascended the Minbar and said: "O People, which of the people of the Earth do you know to be the most noble before Allah?" They said: "You." He said: "Al-Abbas belongs to me and I to him. Do not defame our dead or offend our living." Those people came and said: "O Messenger of Allah, we seek refuge with Allah from your anger; pray to give us
ماخذ میں درج درجات
  • DaifAbu Ghuddah
  • DaifAl-Albani
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 45 · The Book of Oaths (qasamah), Retaliation and Blood Money

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔