سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4731

نمبر 4731کتاب 45، نمبر 26
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَتَلَ أَخِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ كَمَا قَتَلَ أَخَاكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ اتَّقِ اللَّهَ وَاعْفُ عَنِّي فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لأَجْرِكَ وَخَيْرٌ لَكَ وَلأَخِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏.‏ قَالَ فَخَلَّى عَنْهُ قَالَ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ لَهُ قَالَ فَأَعْنَفَهُ ‏"‏ أَمَا إِنَّهُ كَانَ خَيْرًا مِمَّا هُوَ صَانِعٌ بِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah, from the father, that a man came to the Prophet and said:"This man killed my brother." He said: "Go and kill him as he killed your brother." The man said to him: "Fear Allah and let me go, for that will bring you a greater reward and will be better for you and your brother on the Day of Resurrection." So he let him go. The Prophet was told about that, so he asked him about it, and he told him what he had said. He said: "Pardoning him would be better for you than what he would have done for you on the Day of Resurrection when he said: 'O Lord, ask him why he killed me
ماخذ میں درج درجات
  • Daif IsnaadAbu Ghuddah
  • Daif IsnaadAl-Albani
  • Isnaad HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 45 · The Book of Oaths (qasamah), Retaliation and Blood Money

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔