سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4729

نمبر 4729کتاب 45، نمبر 24
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ قَتَلَ رَجُلاً فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ يَقْتُلُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِجُلَسَائِهِ ‏ "‏ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ فَلَمَّا أَخْبَرَهُ تَرَكَهُ ‏.‏ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ حِينَ تَرَكَهُ يَذْهَبُ ‏.‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَشْوَعَ قَالَ وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ الرَّجُلَ بِالْعَفْوِ ‏.‏
It was narrated from 'Alqamah bin Wa'il that:his father told them that a man who had killed another man was brought to the Prophet and he handed him over to their of the victim to kill him. Then the Prophet said to those who were sitting with him: "The killer and the slain will both be in Fire. "A man went after him and told him that, and when he told him that, he left him (let him go). He (the narrator) said: "I saw him dragging his string when he let him go. I mentioned that the Habib and he said: 'Sa'eed bin Ashwa' told me that the Prophet commanded the man to forgive him
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 45 · The Book of Oaths (qasamah), Retaliation and Blood Money

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔