سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4684

نمبر 4684کتاب 44، نمبر 236
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ وَضَعَ رَاحَتَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا نُزِّلَ مِنَ التَّشْدِيدِ ‏"‏ ‏.‏ فَسَكَتْنَا وَفَزِعْنَا فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ سَأَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نُزِّلَ فَقَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ رَجُلاً قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيِيَ ثُمَّ قُتِلَ ثُمَّ أُحْيِيَ ثُمَّ قُتِلَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ دَيْنُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Muhammad bin Jahsh said:"We were sitting with the Messenger of Allah when he raised his head toward the sky, and put his palm on his forehead, then he said: 'Subhan Allah, what a stern warning has been revealed! We fell silent and were scared. The following day I asked him: 'O Messenger of Allah, what is this stern warning that has been revealed? He said: 'By the One in Whose hand is my soul, if a man were to be killed in the cause of Allah then brought back to life, then killed, but he owed a debt, he would not enter paradise until his debt was paid off
ماخذ میں درج درجات
  • HasanAbu Ghuddah
  • HasanAl-Albani
  • Isnaad SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 44 · The Book of Financial Transactions

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔