سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4664

نمبر 4664کتاب 44، نمبر 216
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ الْمِصْرِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَهْدَى رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَهَا ‏"‏ ‏.‏ فَسَارَّ وَلَمْ أَفْهَمْ مَا سَارَّ كَمَا أَرَدْتُ فَسَأَلْتُ إِنْسَانًا إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِمَ سَارَرْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا ‏"‏ ‏.‏ فَفَتَحَ الْمَزَادَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهِمَا ‏.‏
It was narrated from Ibn Wa'lah Misri that he asked Ibn 'Abbas about what is produced from grapes. Ibn'Abbas said:"A man gave the Messenger of Allah a skin full of wine, and the Prophet said to him;' did you know that Allah has forbidden it?' He whispered something and I did not understand what he whispered as I wanted to. I asked a person who was beside him and the Prophet said to him; 'What are you whispering about?' He said: 'I told him to sell it.' The Prophet said: 'The One Who forbade drinking it also forbade selling it.' Then he opened the vessels and poured out their contents
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • Sahih HadithAl-Albani
  • Sahih MuslimZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 44 · The Book of Financial Transactions

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔