سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4653

نمبر 4653کتاب 44، نمبر 205
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنْ يَشْتَرِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ وَقَالَ ‏"‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ فَإِنْ كَانَ فَضْلاً فَعَلَى عِيَالِهِ فَإِنْ كَانَ فَضْلاً فَعَلَى قَرَابَتِهِ أَوْ عَلَى ذِي رَحِمِهِ فَإِنْ كَانَ فَضْلاً فَهَا هُنَا وَهَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir that:a man from among the Ansar who was called Abu (Madhkur) stated that a slave of his who was called Ya'qub was to be set free after he died, and he did not own any other property apart from him. The Messenger of Allah called for him (the slave) to be brought and he said: "Who will buy him?" Nu'aim bin 'Abdullah bought him for eight hundred dirhams, and he gave it to him and said: "If one of you is poor, let him start with himself; if there is anything left over, (let him give it) to his dependents; if there is anything left over, (let him give it) to his relatives; and if there is anything left over, (let him give it) here and there
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • Sahih MuslimZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 44 · The Book of Financial Transactions

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔