سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4628

نمبر 4628کتاب 44، نمبر 180
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عِكْرِمَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُرْدَيْنِ قِطْرِيَّيْنِ وَكَانَ إِذَا جَلَسَ فَعَرِقَ فِيهِمَا ثَقُلاَ عَلَيْهِ وَقَدِمَ لِفُلاَنٍ الْيَهُودِيِّ بَزٌّ مِنَ الشَّأْمِ فَقُلْتُ لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيْهِ فَاشْتَرَيْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ ‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ مَا يُرِيدُ مُحَمَّدٌ إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي أَوْ يَذْهَبَ بِهِمَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كَذَبَ قَدْ عَلِمَ أَنِّي مِنْ أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ وَآدَاهُمْ لِلأَمَانَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah was wearing two Qitri garments which, if he sat and sweated, would become heavy (and uncomfortable). A Jewish man got some fabric from Ash-sham so I said: 'Why don't you send word to him to buy two garments from him, and pay him when things get easier?' So he sent word to him, but he said: 'I know what Muhammad wants; he wants to go away with my money and take them (the two garments).' The Messenger of Allah said; 'He is lying; he knows that I am one of the ones who fear Allah the most, and are most honest in fulfilling trusts
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • Isnaad SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 44 · The Book of Financial Transactions

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔