سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4429

نمبر 4429کتاب 43، نمبر 69
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ النُّفَيْلِيُّ - قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زُبَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلاَثٍ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي بَعْدَ ثَلاَثٍ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الأَشْرِبَةِ فِي الأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِي أَىِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ وَلاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدٌ ‏"‏ وَأَمْسِكُوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said:" The Messenger of Allah said: 'I used to forbid you from doing three things: to visit graves, but now visit three, for you may benefit from that. And I used to forbid you (from eating) the meat of sacrificial animals after three days but now eat it, and keep whatever you want. A and I forbade you to drink form (certain kinds of) vessels, but now drink form whatever kind of vessel you want but do not drink any kind of intoxicant." (Sahih ) Muhammad (one of the narrators) did not mention: "kept (whatever you want)
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 43 · The Book of ad-Dahaya (Sacrifices)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔