سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4369

نمبر 4369کتاب 43، نمبر 9
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى بَنِي أَسَدٍ عَنْ أَبِي الضَّحَّاكِ، عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ مَوْلَى بَنِي شَيْبَانَ قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ حَدِّثْنِي عَمَّا، نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَضَاحِي ‏.‏ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ فَقَالَ ‏ "‏ أَرْبَعٌ لاَ يَجُزْنَ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لاَ تُنْقِي ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي الْقَرْنِ نَقْصٌ وَأَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ ‏.‏ قَالَ مَا كَرِهْتَهُ فَدَعْهُ وَلاَ تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ ‏.‏
It was narrated that Abu Ad-Dahhak 'Ubaid bin Fairuz, the freed slave of Banu Shaiban, said:"IU said to Al-Bara bin Azib: 'Tell me of the sacrificial animals that the Messenger of Allah disliked or forbade, He said: The Messenger of Allah stood up, and my hands are shorter than his, and he said: "There are four that will not do as sacrifices: the animals that clearly has one bad eye: the sick animals that is obviously sick; the lame animal with an obvious limp; and the animal that is so emaciated that it is as if three is no marrow in its bones."' I said: "I dislike that the animals should have some fault in its horns or teeth' He said;'what you dislike, forget about it and do not make it for bidden to anyone
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • Isnaad SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 43 · The Book of ad-Dahaya (Sacrifices)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔