سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4296

نمبر 4296کتاب 42، نمبر 34
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ سَوَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي كِلاَبًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِيهَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ كِلاَبُكَ فَكُلْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَإِنْ قَتَلْنَ قَالَ ‏"‏ وَإِنْ قَتَلْنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَفْتِنِي فِي قَوْسِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا رَدَّ عَلَيْكَ سَهْمُكَ فَكُلْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَإِنْ تَغَيَّبَ عَلَىَّ قَالَ ‏"‏ وَإِنْ تَغَيَّبَ عَلَيْكَ مَا لَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ سَهْمٍ غَيْرَ سَهْمِكَ أَوْ تَجِدْهُ قَدْ صَلَّ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي قَدْ أَنْتَنَ ‏.‏ قَالَ ابْنُ سَوَاءٍ وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَالِكٍ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated from 'Arm bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:a man came to the Prophet and said: "O Messenger of Allah, I have trained dogs; advise me concerning them." He said: "Whatever your dogs catch for you, eat," I side: "Even if they kill it?" He said: "Even if they kill it. " He said: "Advise me about my bow. "He said: "Whatever your arrow returns to you, eat." He said: "Even if it gets away from you, so long as you do not find the mark of an arrow other than yours on it, or you find that it has gone rotten."(Another chain)
ماخذ میں درج درجات
  • Hasan SahihAbu Ghuddah
  • Hasan SahihAl-Albani
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 42 · The Book of Hunting and Slaughtering

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔