سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4274

نمبر 4274کتاب 42، نمبر 12
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ - أَنْبَأَنَا زَكَرِيَّا، وَعَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنْ كَلْبِ الصَّيْدِ فَقَالَ ‏"‏ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَإِنْ قَتَلَ قَالَ ‏"‏ وَإِنْ قَتَلَ فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلاَ تَأْكُلْ وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَهُ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِكَ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْ عَلَى غَيْرِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said:"I asked the Messenger of Allah about hunting with the Mirad. He said: 'whatever is struck with the sharp edge, eat, and whatever is hit with its broad side, it is an animal killed by a blow. "" He said: "And I asked him about hunting dogs. He said: 'If you release your dog and mention the name of Allah over it, then eat.,' I said: 'Even it he kills it?' He said: 'Even if he kills it?" He said: 'Even if he kills it. But if he has eaten some of it, then do not eat. And if you find another dog with your dog and he has killed (the game), then do not eat, for you only said the name of Allah over your dog, not over your dog, not over any other
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 42 · The Book of Hunting and Slaughtering

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔