سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4205

نمبر 4205کتاب 39، نمبر 57
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ الإِيَامِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً فَأَوْقَدَ نَارًا فَقَالَ ادْخُلُوهَا ‏.‏ فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا وَقَالَ الآخَرُونَ إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا ‏.‏ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا ‏"‏ لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ لِلآخَرِينَ خَيْرًا ‏.‏ وَقَالَ أَبُو مُوسَى فِي حَدِيثِهِ قَوْلاً حَسَنًا ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ لاَ طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu 'Adur-Rahman from Ali that:the Messenger of Allah sent an army and appointed a man in charge of them. He lit a fire and said: "Enter it." Some people wanted to enter it, and other said: "We are trying to keep away from it." They mentioned that to the Messenger of Allah, and he said to those who had wanted to enter if: "If you had entered it you would have stayed there until the Day of Resurrection." And he spoke good words to the others. And he said: "There is no obedience if it involves disobedience toward Allah. Rather obedience is only (required) in that which is good
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • Sahih - Agreed UponZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 39 · The Book of al-Bay'ah

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔