سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4146

نمبر 4146کتاب 38، نمبر 14
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ بَيْنَا أَنَا مَعَ، مُطَرِّفٍ بِالْمِرْبَدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مَعَهُ قِطْعَةُ أُدْمٍ قَالَ كَتَبَ لِي هَذِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَقْرَأُ قَالَ قُلْتُ أَنَا أَقْرَأُ فَإِذَا فِيهَا ‏ "‏ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ أَنَّهُمْ إِنْ شَهِدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَفَارَقُوا الْمُشْرِكِينَ وَأَقَرُّوا بِالْخُمُسِ فِي غَنَائِمِهِمْ وَسَهْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَصَفِيِّهِ فَإِنَّهُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Yazid bin Ash-Shikhkhir said:"While I was with Mutarrif in Al-Mirbad, a man came in carrying a piece of leather and said: 'This was written to me by the Messenger of Allah. Is there anyone among you who can read?' I said: 'I can read.' And it was (a letter) from Muhammad the Prophet to Banu Zuhair bin Uqaish, who had testified to Lailah illallah, and that Muhammad is the Messenger of Allah, and had left the idolaters, and had agreed to give the Khumus from their spoils of the Prophet, and wheatever he chose for himself, so they became safe and secure by the covenant of Allah and His Messenger
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih IsnaadAbu Ghuddah
  • Sahih IsnaadAl-Albani
  • SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 38 · The Book of Distribution of Al-Fay'

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔