سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4134

نمبر 4134کتاب 38، نمبر 2
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ - قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ، ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ وَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ كَتَبْتُ إِلَيْهِ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ وَهُوَ لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ وَقَدْ كَانَ عُمَرُ دَعَانَا إِلَى أَنْ يُنْكِحَ مِنْهُ أَيِّمَنَا وَيُحْذِيَ مِنْهُ عَائِلَنَا وَيَقْضِيَ مِنْهُ عَنْ غَارِمِنَا فَأَبَيْنَا إِلاَّ أَنْ يُسَلِّمَهُ لَنَا وَأَبَى ذَلِكَ فَتَرَكْنَاهُ عَلَيْهِ ‏.‏
It was narrated that Yazid bin Hurmuz said:"Najdah wrote to Ibn 'Abbas and asked him about the share of the relatives (of the Messenger of Allah), to whom should it be given?" Yazid bin Hurmuz said:"I wrote down the letter of Ibn 'Abbas to Najdah in which he said; You have written asking me about the share of the relatives (of the Messenger of Allah), to whom should it be given? It is for us, the members of the household (Ahl Al-Bait). 'Umar used to offer to help the single among us (to get married), and to give some to our poor and to pay off the debts of our debtors. We insisted that he should given it to us, but he refused, and we left it at that
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih LighairihiAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • Sahih MuslimZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 38 · The Book of Distribution of Al-Fay'

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔