سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4068

نمبر 4068کتاب 37، نمبر 103
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِالشِّرْكِ ثُمَّ تَنَدَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ سَلُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ فَجَاءَ قَوْمُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ فُلاَنًا قَدْ نَدِمَ وَإِنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نَسْأَلَكَ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَنَزَلَتْ ‏{‏ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ غَفُورٌ رَحِيمٌ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَسْلَمَ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"A man from among the Ansar accepted Islam, then he apostatized and went back to Shirk. Then he regretted that, and sent word to his people (saying): 'Ask the Messenger of Allah [SAW], is there any repentance for me?' His people came to the Messenger of Allah [SAW] and said: 'So and so regrets (what he did), and he has told us to ask you if there is any repentance for him?' Then the Verses: 'How shall Allah guide a people who disbelieved after their Belief up to His saying: Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful' was revealed. So he sent word to him, and he accepted Islam
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih IsnaadAbu Ghuddah
  • Sahih IsnaadAl-Albani
  • Isnaad SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 37 · The Book of Fighting [The Prohibition of Bloodshed]

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔