سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4034

نمبر 4034کتاب 37، نمبر 69
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، وَثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَفَرًا، مِنْ عُرَيْنَةَ نَزَلُوا فِي الْحَرَّةِ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَكُونُوا فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَاسْتَاقُوا الإِبِلَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي آثَارِهِمْ فَجِيءَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ فِي الْحَرَّةِ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمْ يَكْدُمُ الأَرْضَ بِفِيهِ عَطَشًا حَتَّى مَاتُوا ‏.‏
It was narrated from Anas that :Some people from 'Uraynah camped in Al-Harrah and came to the Messenger of Allah [SAW]. The climate of Al-Madinah did not suit them, so the Messenger of Allah [SAW] told them to go and stay near the camels that had been given in Sadaqah, and to drink their milk and urine. Then they killed the herdsman and apostatized from Islam, and drove off the camels. The Messenger of Allah [SAW] sent (men) after them, who brought them, then he had their hands and feet cut off, and their eyes gouged out, and left them in Al-Harrah. Anas said: "I saw one of them biting at the ground from thirst, until they died
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • Isnaad SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 37 · The Book of Fighting [The Prohibition of Bloodshed]

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔