سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4030

نمبر 4030کتاب 37، نمبر 65
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدِنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ قَتَادَةُ ‏"‏ وَأَبْوَالِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَخَرَجُوا إِلَى ذَوْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلاَمِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُؤْمِنًا وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَانْطَلَقُوا مُحَارِبِينَ فَأَرْسَلَ فِي طَلَبِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"Some people from 'Uraynah came to the Messenger of Allah [SAW], but the climate of Al-Madinah did not suit them. The Messenger of Allah [SAW] said to them: 'Why don't you go out to our camels and drink their milk?'" - (one of the narrators) Qatadah said: 'And their urine.' - "So they went out to the camels of the Messenger of Allah [SAW], but when they recovered they killed the herdsman of the Messenger of Allah [SAW], who was a believer, and drove off the camels of the Messenger of Allah [SAW], and left as those at war. He sent (men) after them and they were caught. Then he had their hands and feet cut off, and branded their eyes
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 37 · The Book of Fighting [The Prohibition of Bloodshed]

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔