سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4025

نمبر 4025کتاب 37، نمبر 60
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَفَرًا، مِنْ عُكْلٍ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَفَعَلُوا فَقَتَلُوا رَاعِيَهَا وَاسْتَاقُوهَا فَبَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي طَلَبِهِمْ - قَالَ - فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ وَتَرَكَهُمْ حَتَّى مَاتُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏}‏ الآيَةَ ‏.‏
It was narrated from Anas that :Some people from 'Ukl came to the Prophet [SAW] but the climate of Al-Madinah did not suit them. The Prophet [SAW] told them to go to the camels that had been given in Sadaqah and drink some of their milk and urine. They did that, then they killed their herdsman and drove off the camels. The Prophet [SAW] sent (men) after them, and they were brought to him. He had their hands and feet cut off, and their eyes gouged out, and he did not have (their wounds) cauterized, and he left them to die. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: "The recompense of those who wage war against Allah and His Messenger
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • Sahih - Agreed UponZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 37 · The Book of Fighting [The Prohibition of Bloodshed]

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔