سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 3704

نمبر 3704کتاب 32، نمبر 17
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ يَهَبُ هِبَةً ثُمَّ يَعُودُ فِيهَا إِلاَّ الْوَالِدَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ طَاوُسٌ كُنْتُ أَسْمَعُ الصِّبْيَانَ يَقُولُونَ يَا عَائِدًا فِي قَيْئِهِ وَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَرَبَ ذَلِكَ مَثَلاً حَتَّى بَلَغَنَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ‏"‏ مَثَلُ الَّذِي يَهَبُ الْهِبَةَ ثُمَّ يَعُودُ فِيهَا ‏"‏ ‏.‏ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا ‏"‏ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ قَيْئَهُ ‏"‏ ‏.‏
تابعی طاؤس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے پھر اسے واپس لے لے سوائے باپ کے“۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں بچوں کو کہتے ہوئے سنتا تھا «يا عائدا في قيئه» ! اے اپنی قے کے چاٹنے والے، اور نہیں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثال دی ہے یہاں تک کہ مجھے یہ حدیث پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اس شخص کی مثال جو ہبہ دے کر واپس لے لیتا ہے“، اور راوی نے کچھ ایسی بات ذکر کی جس کے معنی یہ تھے کہ اس کی مثال کتے کی ہے جو اپنے قے کو کھا لیتا ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih LighairihiAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 32 · The Book of Gifts

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔