نمبر 3653کتاب 30، نمبر 43
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ تُعْتَقَ عَنْهَا رَقَبَةٌ وَإِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً نُوبِيَّةً أَفَيُجْزِئُ عَنِّي أَنْ أَعْتِقَهَا عَنْهَا قَالَ " ائْتِنِي بِهَا ". فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ رَبُّكِ ". قَالَتِ اللَّهُ. قَالَ " مَنْ أَنَا ". قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ " فَأَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ".
شرید بن سوید ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے عرض کیا: میری ماں نے وصیت کی ہے کہ ان کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دیا جائے اور میرے پاس حبشی نسل کی ایک لونڈی ہے، اگر میں اسے ان کی طرف سے آزاد کر دوں تو کیا وہ کافی ہو جائے گی؟ آپ نے فرمایا: ”جاؤ اسے ساتھ لے کر آؤ“ چنانچہ میں اسے ساتھ لیے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہو گیا، آپ نے اس سے پوچھا: ”تمہارا رب ( معبود ) کون ہے؟“ اس نے کہا: اللہ، آپ نے ( پھر ) اس سے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، یہ مسلمان عورت ہے“۔
ماخذ میں درج درجات
- Hasan IsnaadAbu Ghuddah
- Hasan IsnaadAl-Albani
- Isnaad HasanZubair Ali Zai