نمبر 3631کتاب 30، نمبر 21
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِي فَقَالَ " أَوْصَيْتَ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " بِكَمْ ". قُلْتُ بِمَالِي كُلِّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ " فَمَا تَرَكْتَ لِوَلدِكَ ". قُلْتُ هُمْ أَغْنِيَاءُ. قَالَ " أَوْصِ بِالْعُشْرِ ". فَمَا زَالَ يَقُولُ وَأَقُولُ حَتَّى قَالَ " أَوْصِ بِالثُّلُثِ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ ".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیمار پرسی کرنے آئے۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے وصیت کر دی؟“ میں نے کہا: جی ہاں کر دی، آپ نے فرمایا: ”کتنی؟“ میں نے کہا: اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دیا ہے۔ آپ نے پوچھا: ”اپنی اولاد کیلئے کیا چھوڑا؟“ میں نے کہا: وہ سب مالدار و بے نیاز ہیں، آپ نے فرمایا: ”دسویں حصے کی وصیت کرو“، پھر برابر آپ یہی کہتے رہے اور میں بھی کہتا رہا ۱؎ آپ نے فرمایا: ”اچھا تہائی کی وصیت کر لو، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ یا بڑا حصہ ہے“۔
ماخذ میں درج درجات
- DaifAbu Ghuddah
- DaifAl-Albani