سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 369

نمبر 369کتاب 3، نمبر 21
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَتِ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلاَ يُشَارِبُوهُنَّ وَلاَ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى ‏}‏ الآيَةَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَىْءٍ مَا خَلاَ الْجِمَاعَ ‏.‏ فَقَالَتِ الْيَهُودُ مَا يَدَعُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلاَّ خَالَفَنَا ‏.‏ فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَأَخْبَرَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالاَ أَنُجَامِعُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ فَتَمَعَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَمَعُّرًا شَدِيدًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ غَضِبَ فَقَامَا فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَدِيَّةَ لَبَنٍ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَرَدَّهُمَا فَسَقَاهُمَا فَعُرِفَ أَنَّهُ لَمْ يَغْضَبْ عَلَيْهِمَا ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہو جاتیں تھی تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھتے تھے، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے متعلق ) پوچھا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» آپ سے لوگ حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے وہ گندگی ہے ( البقرہ: ۲۲۲ ) نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں پئیں اور انہیں اپنے گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں، اس پر یہود کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی معاملہ ایسا نہیں چھوڑتے جس میں ہماری مخالفت نہ کرتے ہوں، اس پر اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہم دونوں اٹھے، اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی، اور کہنے لگے: کیا ہم حیض کے دنوں میں ان سے جماع نہ کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سخت متغیر ہو گیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ناراض ہو گئے ہیں، ( اسی دوران ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ آیا، تو آپ نے ان کے پیچھے ( آدمی ) بھیجا وہ انہیں بلا کر لایا، آپ نے ان کو دودھ پلایا، تو اس سے جانا گیا کہ آپ ان دونوں سے ناراض نہیں ہیں۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • SahihAl-Albani
  • SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 3 · The Book of Menstruation and Istihadah

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔