نمبر 3528کتاب 27، نمبر 140
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَابْنِ، جُرَيْجٍ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنِ الْفَارِعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ، أَنَّ زَوْجَهَا، خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلاَجٍ فَقَتَلُوهُ - قَالَ شُعْبَةُ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَكَانَتْ فِي دَارٍ قَاصِيَةٍ فَجَاءَتْ وَمَعَهَا أَخُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرُوا لَهُ فَرَخَّصَ لَهَا حَتَّى إِذَا رَجَعَتْ دَعَاهَا فَقَالَ " اجْلِسِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ " .
فارعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر ( بھاگے ہوئے ) غلاموں کی تلاش میں نکلے ( جب وہ ان کے سامنے آئے ) تو انہوں نے انہیں قتل کر دیا۔ ( شعبہ اور ابن جریج کہتے ہیں: اس عورت کا گھر دور ( آبادی کے ایک سرے پر ) تھا، وہ عورت اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے گھر کے الگ تھلگ ہونے کا ذکر کیا ( کہ وہاں گھر والے کے بغیر عورت کا تنہا رہنا ٹھیک نہیں ہے ) آپ نے اسے ( وہاں سے ہٹ کر رہنے کی ) رخصت دے دی۔ پھر جب وہ ( گھر جانے کے لیے ) لوٹی تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”تم اپنے گھر ہی میں رہو یہاں تک کہ کتاب اللہ ( قرآن ) کی مقرر کردہ عدت کی مدت پوری ہو جائے۔“ ( اس کے بعد تم آزاد ہو جہاں چاہو رہو ) ۔
ماخذ میں درج درجات
- SahihAbu Ghuddah
- SahihAl-Albani
- Isnaad SahihZubair Ali Zai